جے پور :23/جولائی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)راجستھان ریاستی کانگریس کمیٹی کے صدر سچن پائلٹ نے الور کے رام گڑھ میں گائے کے مبینہ اسمگلنگ معاملہ میں 28 سالہ اکبر خان کو زرخرید بھیڑ کی طرف سے پیٹ پیٹ کر شہید کرنے کے واقعہ کی سچائی کی تہہ تک پہنچنے کے لئے عدالتی جانچ کی مانگ کی ہے۔کانگریس لیڈر نے کہا کہ اس طرح کے واقعات بھاجپا حکمراں ریاستوں میں عام ہو گئی ہے اور راجستھان میں بھیڑ کی طرف سے مارپیٹ کی یہ پہلا واقعہ نہیں ہے؛بلکہ اسی ضلع میں پہلو خان کو ہجوم نے پیٹ پیٹ کرشہید کردیا تھا۔سچن پائلٹ نے کہا کہ اس معاملے میں عدالتی تفتیش کی ضرورت ہے کیونکہ پولیس افسر کی تحقیقات جانبدار ہو سکتی ہیں۔ واقعہ کی سچائی کی تہہ تک پہنچنے کے لئے واقعہ کی عدالتی تحقیقات کی جانی چاہئے۔ بی جے پی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے پائلٹ نے کہا کہ بھیڑ کی طرف سے مارپیٹ اور لوگوں کے قتل بھاجپا حکمراں ریاستوں میں عام ہو گئی ہے۔ کچھ سال پہلے ایسے معاملے کبھی نہیں سنے جاتے تھے۔ سماج دشمن عناصر کو قانون ہاتھ میں لینے، لوگوں پر حملہ کرنے، دن د ہاڑے لوگوں کو قتل کرنے کی کھلی چھوٹ دے دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ راجستھان میں بی جے پی حکومت ترقی کے محاذ پر ناکام رہی ہے، اس لئے اب تقسیم سیاست کر رہی ہے اور معاشرے میں تشدد اور نفرت پھیلا رہی ہے جو مہذب معاشرے میں بالکل ناقابل قبول ہے۔انہوں نے کہا کہ کانگریس صدر راہل گاندھی نے جو کہا ہے وہ سچ ہے کہ بی جے پی کی نریندر مودی اور وسندھرا راجے کے دور حکومت میں آج جس طرح کی حکومت ہے وہ آئین اور قانون کے نظر یہ پر انحصارکرنے کی خواہش مند نہیں ہے، یہاں قانون کی مکمل طور دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے بھیڑ کی طرف سے مارپیٹ کی واقعہ پر بی جے پی رہنماؤں کی طرف سے دیئے گئے بیانات پر تنقیدبھی کی۔ سچن پائلٹ نے کہا کہ بغیر کسی تحقیقات کے بی جے پی ممبر اسمبلی اور وزیر کس طرح کسی نتیجے پر پہنچ گئے یہ از خود اپنے آپ میں حیرت کی بات ہے ۔انہوں نے بھیڑ کی طرف سے مارپیٹ کو مرکزی آبی وسائل کے وزیر مملکت ارجن رام میگھوال کی جانب سے وزیر اعظم کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے جوڑے جانے پر تنقید کی۔ سچن پائلٹ نے کہا کہ وزیر اعظم کو واضح کرنا ہوگا کہ کیا مرکزی وزیر ہجومی تشدد کو فروغ دے رہے ہیں۔